6 جون 2026 - 13:05
مآخذ: ابنا
مزاحمت کی حمایت پر ایران کے اصولی مؤقف کو فلسطینی اسلامی جہاد کی خراجِ تحسین

فلسطینی اسلامی جہاد کے سیاسی دفتر کے رکن علی ابوشاہین نے خطے کی حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مزاحمتی تحریکوں کی حمایت پر ایران کے اصولی مؤقف کو سراہا اور عرب ممالک کو اسرائیلی منصوبوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،فلسطینی اسلامی جہاد کے سیاسی دفتر کے رکن علی ابوشاہین نے خطے کی حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مزاحمتی تحریکوں کی حمایت پر ایران کے اصولی مؤقف کو سراہا اور عرب ممالک کو اسرائیلی منصوبوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی منصوبہ اپنے توسیع پسندانہ اور جارحانہ اہداف پر مسلسل عمل پیرا ہے اور اس کا مقصد فلسطین پر مکمل تسلط، شام اور لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرات پیدا کرنا ہے۔

علی ابوشاہین کے مطابق اسرائیلی پالیسیوں کو مختلف امریکی حکومتوں کی حمایت حاصل رہی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات نے صرف مذاکرات یا بین الاقوامی دباؤ پر انحصار کرنے کی محدودیت کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ادارے اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پابندی پر مجبور کرنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکے، جس سے خطے میں مزید تنازعات نے جنم لیا ہے۔

فلسطینی اسلامی جہاد کے رہنما نے لبنان میں مزاحمتی قوتوں اور یمن میں فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والے عناصر کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ قوتیں خطے میں مزاحمت اور استقامت کی علامت ہیں۔

انہوں نے ایران کی قیادت، حکومت اور عوام کی جانب سے مزاحمت کی حمایت کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام اس حمایت اور یکجہتی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اپنے بیان کے اختتام پر علی ابوشاہین نے فلسطینی عوام اور مختلف مزاحمتی گروہوں کی ثابت قدمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکلات کے باوجود اپنے حقوق اور مقاصد کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha